Showing posts with label Pakistan. Show all posts
Showing posts with label Pakistan. Show all posts

Monday, 21 May 2012

فاٹا کو صوبہ بنائیں: فاٹا گرینڈ الائنس

دنیا میں جہاں ایک طرف افغانستان کے مستقبل کے بارے میں سربراہ اجلاس ہو رہا ہے وہاں پاکستان کے قبائلی علاقوں کے مستقبل کے بارے میں بھی بحث جاری ہے۔ اس سوال پر کہ قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخواہ اسمبلی میں نمائندگی دی جائے یا علیحدہ صوبہ بنا دیا جائے، مبصرین کا کہنا ہے کہ حکام کو قبائلی علاقوں کو جغرافیائی، انتظامی اور ثقافتی حوالے سے دیکھ کر کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔ پاکستان کے ایک اور قبائلی علاقے مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے رہنما ظاہر شاہ ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ سب نعرے انتخابات کی تیاریاں ہیں، قبائلی علاقے کے لوگوں کو ہر کچھ دنوں بعد اس طرح کے خوبصورت نعرے دے دیے جاتے ہیں جس کے بعد خاموشی چھا جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک منتخب کونسل ہو اور وہ قبائلی علاقوں کے مستبقل کے بارے میں فیصلہ کرے۔
قبائلی علاقوں پر تحقیق کرنے والے باچا خان ایجویشن فاؤنڈیشن کے سربراہ پروفیسر خادم حسین سے جب رابط کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ جغرافیائی، انتظامی اور دیگر حوالوں سے بھی یہ علیحدہ صوبہ اس لیے نہیں بن سکتا کیونکہ فاٹا میں ایک بھی ایسا علاقہ نہیں ہے جو انتظامی حوالے سے سارے قبائلی علاقے کی دیکھ بھال کر سکے۔  ایف سی آر جیسے قوانین اور بنیادی حقوق سے محروم افراد کو اگر تمام حقوق دے دیے جائیں اور علاقے میں ترقیاتی کام شروع کر دیے جاییں تو یہ شاید اس علاقے کے لوگوں پر بڑا احسان ہو گا۔ 

Monday, 7 May 2012

’حافظ سعید کے بارے میں پاکستانی اقدامات ناکافی‘

امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن کا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں کے لیے بھارت کو مطلوب حافظ محمد سعید کے خلاف پاکستان کے اقدامات کافی نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بات پیر کو دورۂ بھارت کے دوران کولکتہ میںایک انٹرویو میں کہی۔
بھارت جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید پر دو ہزار آٹھ میں ممبئی میں ہونے والے دہشتگرد حملوں کی منصوبہ سازی کا الزام لگاتا رہا ہے اور انہیں اس کارروائی کا سرغنہ قرار دیتا ہے۔وہ پاکستان سے حافظ سعید کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ حافظ سعید کے خلاف ایسے ٹھوس ثبوت موجود نہیں جو عدالت میں ثابت کیے جا سکیں۔امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ تاحال پاکستانی حکومت نے وہ اقدامات نہیں کیے ہیں جن کا مطالبہ بھارت اور امریکہ دونوں بارہا کر چکے ہیں‘۔

Friday, 27 April 2012

’عہدہ نہیں چھوڑا تو ناقابل توقع نتائج کا سامنا‘

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ توہین عدالت کے مقدمے میں سزا ملنے اور مجرم قرار دیے جانے کے بعد وہ سید یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم نہیں مانتے ہیں۔میاں نواز شریف نے کہا کہ اگر وزیراعظم گیلانی نے عہدہ نہیں چھوڑا تو انہیں ناقابل توقع نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے جمعہ کو لاہور میں مسلم لیگ نون کے سینیئر رہنماؤں کے ایک اجلاس کے بعد ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزارت عظمیٰ اور کابینہ کے عہدے ختم ہو چکے ہیں اور اس وقت ملک کسی بھی حکومت کے بغیر چل رہا ہے۔.جمعہ کو ہی قومی اسمبلیکے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ انہیں سازش کر کے اقتدار سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور جو انہیں ہٹانے کا خواہشمند ہے وہ تحریکِ عدم اعتماد لے آئے۔ مسلم لیگ نون کے صدر میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر پاکستان کے آئین کی سر بلندی اور عدلیہ کی آبرو کے لیے بھرپور جدوجہد کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ چھبیس اپریل کے صبح سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سے اب تک یہ ملک کسی بھی حکومت کے بغیر چل رہا ہے۔ وزیراعظم کو سزا ملنے اور عدالت سے مجرم قرار پانے کے بعد سے نہ صرف وزارت عظمیٰ کا عہدہ بلکہ کابینہ کا عہدہ بھی ختم ہو چکا ہے اور اس وقت حکومت کے نام سے جو کچھ ہو رہا ہے وہ غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے۔ اب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی یا کسی بھی وزیر کی بات یا اقدام کی کوئی آئینی یا قانونی حثیت نہیں۔نواز شریف نے کہا کہ وزیراعظم اس ملک، دستور، نظام اور جمہوریت پر رحم کریں اور وزیراعظم کے عہدے کا ناجائز قبضہ چھوڑ دیں اور اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو انہیں ناقابل توقع نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کی نہ تو یہ اصول کی جنگ ہے نہ نظریے کی نہ کسی مقصد کی اور نہ قومی مفار کی جنگ ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ پورے ملک کو چھ کروڑ ڈالر کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ ’میں سمجھتا ہوں کہ یہ ملک کے ساتھ نا انصافی ہے اور نہ ہم اس چیز کو قبول کرتے ہیں نہ برداشت کرتے ہیں۔‘ وزیراعظم نے آئین سے وفاداری کا حلف اُٹھایا تھا کسی شخص سے وفاداری کا نہیں؟ انہوں نے اپنے حلف سے غداری کی ہے اور اب وہ ملک کو کسی امتحان میں نہ ڈالیں۔ ’یہ ملک پہلے ہی بحرانوں کی زد میں گھرا ہوا ہے وہ پاکستان کے غریب لوگوں پر رحم کریں اور اپنا عہدہ فی الفور چھوڑ دیں۔‘ میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ اگر وہ پاکستان میں اس طرح کے سلسلے پر توجہ نہیں دیتے ہیں یا بغیر کسی احتجاج کے جانے دیتے ہیں اور جو کچھ حکومت کرنا چاہتی ہے اس کو ہونے دیتے ہیں تو پھر کم از کم وہ سیاست میں رہنے کے گاہک نہیں ہیں اور اُن کو جماعت اس طرح کی سیاست کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔



Sunday, 22 April 2012

تمام نجی فضائی کمپنیوں کے جہازوں کا معائنہ

پاکستان کے وزیر دفاع چودھری احمد مختار نے کہا کہ ملک میں چلنے والی تمام نجی ائیر لائنز کے طیاروں کے معائنے کا حکم دے دیا گیا ہے اور جب تک یہ معائنہ مکمل نہیں ہوتا اس وقت ان نجی طیاروں کو پروازوں کی اجازت نہیں ہوگی۔پی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ تمام نجی ائیر لائنز کے طیاروں کے معائنے کے لیے سول ایوی ایشن کے باضابطہ احکامات جاری کردیئے ہیں۔نجی ائیر لائینز کے طیاروں کے معائنے کا فیصلہ جمعہ کو بھوجا ائیر لائن کے طیارے کو آنے والے حادثے کے بعد کیا گیا ہے۔ اس حادثے میں عملے سمیت تمام مسافروں جان بحق ہوگئے تھے۔وزیر دفاع چودھری احمد مختار نے کہا کہ ماہرین ان طیاروں کا معائنہ اسی طرح کریں گے جس طرح قومی ائیر لائن یعنی پی آئی اے کے طیاروں کی چانچ پڑتال کی جاتی ہے۔چودھری احمد مختار نے کہا کہ کوئی ایسا خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا کہ جہاز میں کوئی خرابی ہو اور اس سے جانی نقصان ہوجائے۔وزیر دفاع احمد مختار کا کہنا ہے کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ معائنے کے بعد نجی ائیر لائنز کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو قومی ائیر لائن کے طیاروں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ یہ معائنہ کتنے دنوں میں مکمل ہوگا اور بقول ان کے اس میں ایک یا اس زیادہ دن لگ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا سول ایوسی ایشن اپنا کام کررہی ہے اور جن طیاروں کا معانئہ مکمل ہوجائے انہیں اڑنے کی اجازت مل جائے گی۔ادھر اتوار کے روز دو مختلف ہوائی اڈوں پر شاہین ائیر لائن کے دو طیاروں میں فنی خرابی پیدا ہوگئی۔
شاہین ائیر لائنز کے طیارہ کا ٹائر کراچی ہوائی اڈے پر پھٹ گیا جبکہ دوسرے واقعہ لاہور کے ہوائی اڈے پر پیش آیا جہاں اسی ائیر لائن کے طیارہ کا فیول ٹینک لیک ہوگیا۔دوسری طرف وزیر اعلیْ پنجاب شہبازشریف نے حادثے کا شکار ہونے والے بھوجا ائیر لاین کے طیارہ کی تحقیقات کے لیے کیمشن کی تشکیل پر نکتہ چینی کی ہے۔شہبازشریف کا کہنا ہے کہ کمیشن میں کوئی حاضر سروس افسر نہیں اور نہ ہی یہ کمیشن چیف جسٹس کی مشاورت سے قائم کیا گیا ہے۔

بھوجا ائیر لائن کا طیارہ امریکی کمپنی کی ملکیت


راولپنڈی کے قریب حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ یہ بوئنگ طیارہ کمپنی نے ایک امریکی کمپنی سے کرائے پر حاصل کیا تھا جس کے لیے ایک لاکھ ڈالر کے قریب رقم ہر ماہ ادا کی جاتی تھی۔
وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے اس جہاز کی ساخت اور صورتحال کی تحقیقات کر رہا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر کی سربراہی میں پانچ رکنی ٹیم نے گزشتہ روز فاروق بھوجا سے تفتیش کی تھی۔ایف آئی اے کے ذرائع کے مطابق فاروق بھوجا نے ٹیم کو بتایا کہ کمپنی میں اسّی فیصد شیئرز ارشد جلیل نامی شخص کے ہیں اور ان کا صرف لائسنس استعمال کیا گیا ہے۔ فاروق بھوجا کمپنی میں صرف چار فیصد شیئرز رکھتے ہیں جس کے ان کے پاس دستاویزات بھی موجود ہیں۔ارشد جلیل پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے میں بھی اہم منصب پر رہے ہیں۔ اس وقت چین میں موجود ہیں اور ان کے ایک اور نجی کمپنی میں بھی شیئرز تھے مگر بعد میں اس کمپنی نے بھی مالی بحران کے باعث اپنا آپریشن معطل کر دیا تھا۔
 
ایف آئی اے ذرائع کے مطابق کاغذات کے تحت حادثے کا شکار طیارے نے جنوری انیس سو پچاسی سے اپنا آپریشن شروع کیا اور رواں سال اوور ہالنگ کے بعد پچیس جنوری کو اس نے پاکستان سے پروازوں کا آغاز کیا۔امریکہ سے خریداری کے وقت وہاں کی سول ایوی ایشن اتھارٹی اور بعد میں پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی اسے کلیئرنس سرٹیفیکیٹ جاری کیا تھا۔اس طیارے اور بھوجا ایئر کا کچھ ریکارڈ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق یہ ریکارڈ بھی اہمیت کا حامل ہے جس میں خاص طور پر پائلٹ کی لاگ بک شامل ہے۔
لاگ بک میں کپتان جہاز کی پرواز اور مسائل کے بارے میں تحریر کرتے ہیں جس سے طیارے کی صورتحال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ طیارے میں اگر کوئی خرابی تھی تو کمپنی نے اس کو دور کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے۔

Tuesday, 10 April 2012

’پانچ مقامات کی نشاندہی، کھدائی کا کام جاری‘

ہمالیہ کے متنازع علاقے سیاچن کے گیاری سیکٹر میں برفانی تودے تلے دبے ایک سو انتالیس افراد کی تلاش میں پاکستان کی مدد کے لیے جرمن اور سوئس ٹیمیں منگل کو پاکستان پہنچ گئی ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق امدادی آپریشن میں مدد کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ سے تین ماہرین پر مشتمل ٹیم جبکہ جرمنی سے آفات سے نمٹنے کے ماہرین پر مشتمل چھ رکنی ٹیم ضروری سازوسامان سمیت پیر اور منگل کی درمیانی شب پاکستان پہنچیں۔
دوسری جانب جائے حادثہ کے قریب موسم شدید خراب ہے اور اطلاعات کے مطابق وہاں پر برف باری بھی شروع ہوگئی ہے جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امدادی کام جاری ہے ۔ امدادی کاموں میں ساڑھے چار سو فوجی اہلکار اور انسٹھ عام شہری حصہ لے رہے ہیں۔
بیان کے مطابق برفانی تودے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے پانچ جگہوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور امدادی ٹیمیں کھدائی کا کام کر رہی ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دو جگہوں پر کھدائی کا کام مشینری کے ذریعے کیا جا رہا ہے جبکہ تین جگہوں پر فوجی اہلکار اور عام شہری کھدائی کر رہے ہیں۔
بیان کے مطابق جرمن اور سوئّزرلینڈ سے آئی ٹیمیں گیاری سیکٹر کا دورہ کریں گی۔ تاہم موسم خراب ہونے کے باعث یہ ٹیمیں گیاری سیکٹر نہیں جا سکیں۔
واضح رہے کہ پچھلے دو دنوں سے علاقے میں خراب موسم کی وجہ سے کوئی بھی پرواز سکردو میں نہیں اُتر رہی ہے۔
امدادی کاموں میں حصہ لینے کے لیے امریکہ کی آٹھ رکنی ٹیم جو اتوار کو پاکستان پہنچی تھی، خراب موسم کی وجہ سے جائے حادثہ پر نہیں پہنچ سکی۔
پیر کو پاکستانی فوج نے متاثرہ علاقے کی سیٹلائٹ سے لی گئی کچھ تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خراب موسم اور مسلسل برفباری کی وجہ سے امدادی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
پیر کو فوج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ چالیس فٹ طویل، تیس فٹ چوڑا اور دس فٹ گہرے حصے کی تلاشی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق امدادی آپریشن میں پانچ ہیلی کاپٹرز بھی شریک ہیں جبکہ اسلام آباد سے ایک سی ون تھرٹی طیارے کی مدد سے قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے اور سٹریٹجک پلاننگ ڈویژن کے ماہرین کو بھی متاثرہ علاقے میں پہنچا دیا گیا ہے۔

Friday, 6 January 2012

Nawaz stresses redressal of Balochistan grievances

QUETTA: PML-N chief Mian Nawaz Sharif is in Quetta for 2-day visit where he met with the delegation of National Party lead by Senator Dr Abdul Malik Baloch at MPA hostel.
While addressing the delegation, Nawaz regretted the military operation in Balochistan and said that people of the province were not treated fairly and their sentiments were hurt but it is the time for accountability and address their issues.
He questioned the PPP government that what steps were taken to solve the problems of Balochistan including the issues of target killings, kidnappings, and recovering missing persons. He also asked what did the government do to address the murder of Nawab Akbar Bugti.
The PML-N chief also highlighted that no action had been taken after the Kharotabad incident, where five foreigners were killed by security forces. He said that without addressing these issues, peace cannot be restored in the province and that the Balochistan package is not enough to solve its problems.
Nawaz said that he had many plans for the province and pledged for serious efforts to uplift the province if elected again.
He said that Balochistan’s Gawadar port had the potential to compete with Dubai and other Gulf countries. He said it was his dream to develop Gawadar and that he does not know who stopped the developments.
The PML-N leader also said that everything in Balochistan had been destroyed, and that this had ended up hurting the people of this province.

Wednesday, 23 November 2011

US not formally notified of Haqqani's resignation: Mark Toner


WASHINGTON: State Department has stated that US had not yet been formally notified of Husain Haqqani's resignation and appointment of Sherry Rehman as Pakistan's new Ambassador to US.
Addressing a press conference here, US State Department spokesman Mark Toner said the US had not yet been formally informed about Husain Haqqani's resignation and appointment of Sherry Rehman as ambassador to US.
The spokesman praised Husain Haqqani for playing vital role in maintaining Pak-US ties.
Toner said the US would work with new ambassador Sherry Rehman for strengthening strong Pak-US ties, adding that change of envoy would not affect relations.

Irrigation, Revenue depts giving PPP a bad name


KARACHI - “The Pakistan People’s Party (PPP) government is getting a bad reputation due to the Sindh Irrigation and Revenue departments. What is the purpose of their existence if they cannot improve their performance and have failed to provide relief to the common man?” Public Accounts Committee (PAC) Chairman Jam Tamachi Unnar said on Wednesday.
Unnar, who is also the ruling PPP’s member of the provincial assembly, was presiding over a PAC meeting at the Sindh Assembly building to examine the Irrigation Department’s audit reports of 2006-09.
“What is the purpose of the Irrigation Department if it has failed to recover the outstanding money as well as provide water to the tail-end areas?” Unnar asked.
The committee expressed concern and annoyance over the Irrigation Department’s failure in recovering Rs 2 billion that were supposed to be recovered during a period of three years.
Irrigation Secretary Khalid Memon told the PAC that only Rs 150 million have been recovered during that period.
Irrigation Department officials failed to settle the paras of the audit reports and sought time of two more months to be able to do so.
The PAC deferred the proceedings on the audit paras at their request, but directed them not to claim TA/DA of the meeting.
The committee recommended the Sindh government to withdraw the recovery powers of the Irrigation Department officials if they fail in recovering the outstanding amount.
The PAC has summoned the Sindh irrigation minister in the next meeting of the committee. It also directed the PAC secretary to inform Sindh Chief Minister Syed Qaim Ali Shah that bureaucrats belonging to different departments are not taking the PAC meetings seriously.

اسلام آباد: پاکستان میں موٹرے وے حکام نے شدید دھند کے پیش نظر حادثات سے بچنے کے لیے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ شام 6 سے صبح 10 بجے کے درمیان موٹرویزپرسفر نہ کریں۔
دارالحکومت اسلام آباد میں نیوزکانفرنس میں آئی جی موٹرویز کاکہناتھاکہ شہریوں کو پابند کیا جارہا ہے کہ وہ فوگ لائٹس لازمی لگائیں،زیادہ دھند کی صورت میں اور گاڑیاں پھنس جانے کی صورت میں انہیں قافلے کی شکل میں موٹرویز سے باہر نکالا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک بورڈزکی مددسے دھندکی نشاندہی کی جائے گی،ریکوری اور دیگرسہولیات کیلئے ون فائیوکرینیں لینے پر غورجاری ہے جب کہ 12 ریکوری وہیکلز کو سڑکوں پر تعینات کردیا گیا ہے۔

پاکستان میں نرسیں بھی سراپا احتجاج


لاہور: پاکستان میں بڑھتی ہوئے مہنگائی نے انسانیت کی خدمت کرنے والی نرسوں کو بھی سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کر دیا ہے۔
تنخواہوں میں اضافے کےلیے ملتان، فیصل آباد، رحیم یارخان اور بہاولنگرکے سرکاری ہسپتالوں کی نرسوں نے بدھ کو بھی ہڑتال کی اور احتجاجی مظاہرہ کیے۔
پنجاب میں تنخواہوں میں اضافے کےلیے دکھی انسانیت کی خدمت کرنے والی نرسیں سراپا احتجاج ہیں۔
ملتان میں نرسوں کی ہڑتال ساتویں روز بھی جاری رہی، احتجاج کرنے والی نرسوں نے ریلی نکالی جسے پی ایم ہاؤس جانے سے روک دیا گیا۔
فیصل آباد میں الائیڈ اسپتال، ڈی ایچ کیو ہسپتال، کارڈیالوجی سینٹر اور جنرل اسپتال غلام محمد آباد کی نرسوں نے کام کا بائیکاٹ کرتے ہوئے دھرنا دیا اور ریلی نکالی۔
رحیم یارخان میں بھی شیخ زید اسپتال کی نرسوں کا تیسرے دن بھی احتجاج جاری رہا اور وارڈز کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا،نرسوں نے احتجاجی ریلی بھی نکالی۔
بہاولنگر کے ڈسڑکٹ ہیڈ کواٹرز اسپتال میں بھی نرسوں نے شدید احتجاج کیا،مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔
دوسری جانب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے نرسوں کی ہڑتال کا نوٹس لے لیا ہے اور وزیر اعلیٰ کو یہ مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ایبٹ آباد کمیشن:حقانی کی طلبی کا فیصلہ


اسلام آباد: ایبٹ آباد کمیشن نے بھی حسین حقانی کو طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک دو روز میں نوٹس جاری کر دیئے جائے گے۔
ذرائع کے  مطابق امریکی ایڈمرل مائیک مولن کو مبینہ خط لکھنے کے نتیجہ میں مستعفی ہو نے والے پاکستانی سفیر حسین حقانی کو اب دیگر تحقیقات کے علاوہ ایبٹ آباد کے واقعہ پر قائم اعلیٰ ترین عدالتی کمیشن کے سامنے بھی پیش ہونا ہو گا۔
اس سلسلے میں ایبٹ آباد کمیشن نے باضابطہ طور پر حسین حقانی کو طلب کر نے کا فیصلہ کیا ہے۔امید ہے کہ ایبٹ آباد واقعہ کی اگلی سماعت میں حسین حقانی اس کمیشن کے روبرو پیش ہوں گے۔
یاد رہے کہ یہ سارا معاملہ ایبٹ آباد آپریشن کے بعد پیدا ہوا۔
میمو کے نکات کے مطابق حکومت کو خدشہ تھا کہ آئی ایس آئی اور فوج شاید حکومت کا تختہ الٹ دے اس لیے مبینہ طور پر اس خط کے ذریعے امریکی فوج سے مدد طلب کی گئی تھی۔ اب حسین حقانی کو کمیشن کے سامنے پیش ہونا پڑے گا اور کمیشن حسین حقانی سے نہ صرف ایبٹ آباد کے واقعہ کے بارے میں کچھ سفارتی معلومات حاصل کرے گا بلکہ میمو کے بارے میں بھی ان سے سوالات کیے جائیں گے اور ان سے مزید معلومات حاصل کی جائیں گی۔
حکومت نے حسین حقانی کو تحقیقات مکمل ہو نے تک اسلام آباد میں رکنے کی ہدایت کی ہے انہیں غیر معمولی سیکورٹی فراہم کر دی گئی ہے۔ تاہم ابھی تک ان کا قیام ایوان صدر کے مہمان خانے میں ہے۔

پاکستانی حاجی بال بال بچ گئے


لاہور: سعودی عرب سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کے طیارے پر لاہور آنے والے 495 حاجی حادثے سے بال بال بچ گئے۔
ائیر پورٹ ذرائع کے مطابق پائلٹ نے بتایا کہ ائیرٹریفک کنٹرولر نے حد نگاہ ایک کلومیٹر بتائی جب کہ لینڈنگ کے وقت حد نظر صرف 300فٹ تھی۔
پائلٹ نے مزید کہا کہ کنٹرول ٹاور نے اسے موسم کی بھی غلط معلومات دیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں پی آئی اے کے طیارے کئی بار حادثے سے بال بال بچے ہیں جس میں فیول کا اخراج ، طیارے میں چوہا گھس جانا اور دیگر واقعات شامل ہیں۔

Breaking News


ISLAMABAD: A meeting of Parliamentary Committee on National Security has been summoned on November 25 to discuss the memo scandal.
Member committee and senior PML-N leader Ishaq Dar has written letter to Chairman Raza Rabbani asking him to hold a meeting to debate the matter. Dar also demanded that Foreign Secretary, DG ISI be summoned to present the facts and developments made into the issue.

امریکا،پاکستان کی نئی سفیر”شیری رحمٰن“


اسلام آباد :پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات  شیری رحمان کو  امریکا میں پاکستان کا سفیر مقرر کردیا گیا ہے۔
نمائندہ دی نیوز ٹرائب کے مطابق وزیراعظم ہاوس کی جانب سے شیری رحمٰن کی تقرری کا نوٹیفیکشن جاری  کرتے ہوئے وزیر اعطم نے ان کے نام نیک خواہشات کا پیغام بھی دیا۔
شیری رحمٰن اس سے قبل پاکستان ہلال احمر کی سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کررہی تھیں۔
یاد رہےکہ شیری رحمٰن موجود حکومت کی پہلی وزیر اطلاعات و نشریات تھیں۔
سابق وزیراطلاعات 26 دسمبر1960ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں وہ پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں جب کہ انہوں نے 10 سال دی ہرالڈ پاکستان میں بحیثیت ایڈیٹر کام بھی کیا ہے جنہیں برطانیہ کی جانب سے آذادی صحافی کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔
شیری رحمان 2002ء سے 2007ء میں ممبر قومی اسمبلی بھی رہیں ہیں۔

ہرمعاملے پر سپریم کورٹ جانادرست نہیں


کراچی  : پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما  اور وفاقی وزیر مذہبی امور خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ہرمعاملے پر سپریم کورٹ جانادرست بات نہیں ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  وفاقی وزیر نے کہاکہ عمران ایجنسی کا بندہ ہے کہ نہیں  اس بارے میں نواز شریف  زیادہ بہتر طور پر بتا سکتے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ میمو معاملے پر حکومتی سطح پر تحقیقات ہورہی ہیں ہم سچ بولتے ہیں تو میڈیا کے قلم کی سیاہی ختم ہوجاتی ہے۔
خورشید شاہ نے مزید کہاکہ نواز شریف نےکہاکہ سب کچھ فوج نے کیا اس پر تحقیقات ہونی چاہیے۔

Tuesday, 22 November 2011

کراچی،نجی بینک میں40 لاکھ کاڈاکا


کراچی: پاکستان کےجنوبی صوبے سندھ کے دارالحکومت کراچی  کے علاقے  گلشن اقبال حسن اسکوائر کی نجی بینک سے ڈاکوں 40 لاکھ لوٹ کر فرار  ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
 میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایس ایس پی نیاز کھوسو  نے بتایا کہ ملزمان 6 کی تعداد میں آئے تھے انہوں نے گارڈ سے اسلحہ چھینے کے  بعد عملے کو  یرغمال بنا کر بینک کو لوٹا۔
انہوں نے کہاکہ ملزمان ایک ہی کار میں سوار ہوکر فرار ہوئے اور جاتے ہوئے سی سی کیمرے کی فوٹیج اور گارڈ کااسلحہ بھی ساتھ لے گئے۔
ایس ایس پی نے مزید بتایا کہ بینک کے عملے سے  معلومات اکھٹی کی جارہی ہے جلد ہی  ڈاکووں کو گرفتار کرلیا جائےگا۔

عفت عمران گردیزی کو قائم مقام سفیر مقرر


اسلام آباد : متنازعہ میمو اسیکنڈل پر امریکا میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کو مستعفی کرائے جانے کے بعد عفت عمران گردیزی کو قائم مقام سفیر مقرر کردیا گیا ہے۔
پاکستان کے مرکزی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع دفترخارجہ کے مطابق عفت گردیزی امریکا میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کی نائب کے طور پر فرائض انجام دے رہی تھیں۔
دفتر خارجہ  کا کہنا ہے کہ امریکا میں پاکستان کے مستقل سفیر کی عدم تعیناتی تک عفت گردیزی پاکستانی سفیر کے فرائض ادا کریں گی۔
عفت عمران گردیزی پاکستان کی فارن سروسز میں ایک کیریئر افسر ہیں جنہوں نے 1987ء میں فارن سروسز کو جوائن کیا۔
انہوں نے 1993ء تک مختلف ڈویژنز میں خدمات سرانجام دیں جن میں امریکا اور اقوام متحدہ میں خدمات بھی شامل ہیں۔
1993ءسے 1998ء تک وہ ہانگ کانگ میں پاکستان کی نائب قونصل جنرل رہیں جب کہ 2001ء سے 2005ء تک وہ وزارت امور خارجہ میں ڈائریکٹرسیکورٹی کونسل اور ہیومن رائٹس ڈویژن رہیں۔
2005ء سے 2009ء تک وہ برلن میں پاکستان کی قونصلر اور پھر بعد میں منسٹر رہیں ۔
انہوں نے 2009ء میں واشنگٹن میں بطور وزیر جوائن کیا جب کہ وہ 5 اگست 2010ء کو سفارتخانے کی نائب ناظم الامور مقرر ہوئیں۔
معاشیات میں ماسٹر ڈگری ہولڈر اوردو بچوں کی ماں عفت گردیزی کو اب واشنگٹن میں قائم مقام پاکستانی سفیر مقرر کیا گیا ہے۔

Memo costs Haqqani US Ambassador post


ISLAMABAD: Hussain Haqqani, the embattled Pakistani Ambassador to the US, has tendered his resignation and expressed readiness to face an enquiry before the top military and political leadership here at the Presidency.
According to sources, Prime Minister Yusuf Raza Gilani has accepted Haqqani’s resignation.
Presidential spokesman Farhatullah Babar has said that the Prime Minister demanded resignation from the US Ambassador in order to ensure a transparent enquiry into the memogate issue.
A meeting of top military and political leadership is still underway at the Presidency to grill Husain Haqqani for his alleged role in the memo issue.
President Asif Ali Zardari, Prime Minister Yusuf Raza Gilani besides Chief of Army Staff General Ashfaq Parvez Kayani and and the ISI Chief Lt. Gen. Ahmed Shuja Pasha are present at the meeting.
Reuters Adds: Pakistan's ambassador to the US resigned on Tuesday, days after a Pakistani-American businessman said the envoy was behind a controversial memo that accused the Pakistani military of plotting a coup in May.
Envoy Husain Haqqani said on his Twitter account he had sent his resignation to the prime minister.
Haqqani said he had served the country as an Ambassador for three and a half years and would “contribute to building a new Pakistan free of bigotry and intolerance.”
He further said that he would focus his energies on the above mentioned.

PM asked Hussain Haqqani to resign


ISLAMABAD - Spokesman of the Prime Minister’s House said that the Prime Minister directed conducting of a detailed investigation at an appropriate level and in the meanwhile he asked Pakistan Ambassador to the US Hussain Haqqani to submit his resignation so that the investigation can be carried out properly.
The Spokesman said that all concerned would be afforded sufficient and fair opportunity to present their views and the investigation shell be carried out fairly, objectively and without bias.
The Spokesman further added as a result of controversy generated by the alleged memo which had been drafted, formulated and further admitted to have been received by Authority in USA, it has become necessary in National interest to formally arrive at the actual and true facts.

 
Design by Free WordPress Themes | Bloggerized by Lasantha - Premium Blogger Themes | Hot Sonakshi Sinha, Car Price in India