Showing posts with label Crimes. Show all posts
Showing posts with label Crimes. Show all posts

Tuesday, 26 June 2012

مافیا کا ڈان ملک ریاض کا ٹا ئٹینک ڈوبنے لگا

malik riaz 1
کنگ آف کرپشن اور لینڈ مافیا کے مرکزی سرغنہ اور بحریہ ٹاون کا مالک ملک ریاض حسین عرف ڈان جن پر الزام ہے کہ وہ ملک کے حکمرانوں، سیاست دانوں،بیورو کریسی اور میڈیا کے اہم دلا گیروں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر لالچی کتے کی طرح ہڈی ان کے منہ میں ڈالی رکھتے ہیں۔اور اس ضمن میں اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے کروڑوں روپے بطور رشوت ان کو دے دیتے ہیں۔ملک ریاض حسین کبھی ایک معمولی کلرک ہوا کرتے تھے لیکن وہ تمام قانونی و اخلاقی حدیں پھلانگتے ہوئے اب کھرب پتی بن چکے ہیں اور ان کا دولت کمانے کا سفر جاری ہے۔اٹھاون سالہ ملک ریاض ایک معمولی ٹھیکے دار کے گھر پیدا ہوئے اور والد کے کاروبار میں خسارے کے بعد میٹرک پاس ملک ریاض حسین کو کلرک کی نوکری کرنا پڑی۔ بعد میں فوج میں ایک نچلے درجے کے ٹھیکے دار کی حثیت سے کاروبار کیا۔یہ ان کی زندگی کا مشکل ترین دور تھا۔ وہ اپنے تقریبا ہر انٹرویو میں اپنے اس دور کی تکالیف ضرور بیان کرتے ہیں۔ ان تکالیف میں بچی کے علاج کے لیے گھر کے برتن فروخت کرنا، خود قلعی یعنی سفیدیاں کرنا اور سڑکوں پر تارکول لگانا جیسے واقعات شامل ہیں۔ وہ اپنی مرحوم بیوی کی اس حسرت کا بھی اظہار کرتے ہیں جو ایک پانچ مرلے کی مالکانہ حقوق پر مشتمل تھی۔پاکستان میں نوے کی دہائی میں جب جمہوری حکومتیں گرائی جارہی تھیں تب ملک ریاض نے یہ بھانپ لیا تھا کہ کاروبار میں فوج کا ساتھ بہت سود مند ثابت ہوگا۔ معمولی تعلیم اور دیہاتی حلیے والے اس آدمی نے بڑے بڑے فوجی افسروں کو پیسے کمانے کے منصوبے پیش کیے۔ملک ریاض کے خلاف مقدمات کا پیروی کرنے والے ایک وکیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ میں ملک ریاض اور اس وقت کے نیول چیف ایڈمرل فصیح بخاری کے ساتھ معاہدوں کی تصدیق شدہ نقول عدالت میں داخل کرائی ہیں۔معروف عسکری تجزیہ نگار عائشہ صدیقہ نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ پاکستان کے بعض فوجی افسروں نے زمینیں خریدنے میں ملک ریاض کی بے حد مدد کی ہے اور اس کے عوض ان افسروں کو طے شدہ حصہ ملا۔کامیابی کا پہلا بڑا قدم وہ تھا جب نیوی نے راولپنڈی کے ہاسنگ پراجیکٹ سے توہاتھ کھینچ لیا لیکن وہ اپنا نام اس رہائشی سکیم سے واپس نہ لے سکی۔ملک ریاض کا تیز دماغ ایک کے بعد ایک منصوبہ بناتا چلا گیا۔ ہاسنگ سکیم کے کسی بھی فیز یا سیکٹر کا اعلان ایسی صورت میں کیا جاتا رہا کہ اس سکیم کا زمین پر وجود ہوتا نہ کوئی نقشہ تک ہوتا۔ لیکن اس کے باوجود صرف درخواست فارم خریدنے کے لیے لوگ دیوانوں کی طرح لائن میں لگتے دھکم پیل کرتے اور لاٹھی چارج اور آنسوگیس کے باوجود ہٹنے کو تیار نہ ہوتے۔ ملک ریاض جو معمولی سا ٹھیکہ لینے کے لیے دو دو روز تک کسی کیپٹن یا میجر کے دفاتر کے باہر بیٹھا رہتا تھا اب ان سے کہیں بڑے فوجی افسر اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ملک ریاض کے تنخواہ دار ملازم ہیں۔ مسلم لیگ نون کے قائد حزب اختلاف کے مطابق انہوں نے نو سابق جرنیلوں کو اپنا ملازم بنا رکھا ہے۔ایک پیسے پیسے کو محتاج شخص پندرہ سے بیس سال کے عرصے میں کھرب پتی بن چکا ہے۔اس عرصے میں ملک ریاض پر مختلف مقدمات درج ہوئے جن میں غریب اور کم زور لوگوں کو قتل کرانے، ان کی زمینوں پر قبضے کرنے، لڑائی جھگڑے، دھوکہ دہی سمیت بہت سے مقدمات ہیں جو مختلف عدالتوں میں زیر سماعت اور بہت سے مقدمات سے وہ بری ہوچکے ہیں اور بعض میں وہ اشتہاری بھی ہیں لیکن پولیس انہیں گرفتار نہیں کر سکتی۔۔ملک ریاض کے قریبی ساتھی ان کی ایک خوبی یا خامی یہ بتاتے ہیں کہ وہ ایک نظر میں پہچان جاتے ہیں کہ ان کا مخاطب کس درجے کا لالچی ہے اور وہ اسی کے مطابق اس سے ڈیل کرلیتے ہیں۔ملک ریاض جن کے حیرت انگیز طور پر بیک وقت پاکستان کے موجودہ سابق اور مستقبل کے ممکنہ حکمرانوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔سنہ ننانوے میں ان پر نیب کے بے شمار مقدمات تھے لیکن ایک وقت آیا کہ وہ مشرف کے دوست بن گئے۔ صدر زرداری سے ان کی اسیری کے وقت میں کی گئی دوستی آج بھی ملک ریاض کے کام آرہی ہے۔ چودھری برادران کا کوئی کام ہو یا تحریک انصاف کے جلسے کے فنڈز درکار ہوں چلتی ہوا کا رخ پہچان جانے والے ملک ریاض پیچھے نہیں رہتے۔سیاسی حلقوں میں کہا جاتا ہے کہ جب پنجاب میں گورنر راج لگا تو پیپلز پارٹی کے حق میں ملک ریاض نوٹوں کے اٹیچی لے کر گورنر ہاس میں موجود رہے لیکن اس کے باوجود ان کا کمال یہ ہے کہ ان کے مسلم لیگ نون کے میاں برادران سے بھی قریبی تعلقات بھی ہیں۔یہ بات اب پاکستانی میڈیا میں آچکی ہے کہ صدر آصف زرداری اور نواز شریف کے درمیان معاہدہ بھوربن کروانے والی شخصیت کوئی اور نہیں بلکہ ملک ریاض ہی تھے۔ جبکہ راولپنڈی میںسابق ڈائریکٹر انجینئر کرنل ریٹائرڈ طارق کمال نے انکشاف کیا ہے کہ ملک ریاض نے ذاتی مفاد کی خاطردھوکہ دہی سے ڈی ایچ اے کے ڈیڑھ لاکھ ممبران کی ملکیتی زمین اور انکے باسٹھ ارب روپے کی خون پسینے کی کمائی بحریہ ٹائون کے نام منتقل کی مگر اس پر کوئی ایف آئی آر درج کی گئی ہے نہ کسی کو سزا ملی ۔ نہ متاثرین کو زمین یا معاوضہ ادا کیا گیا جبکہ قومی احتساب بیورو سمیت تمام انسداد رشوت ستانی و دیگر اداروں نے بھی مک مکا کر لیا۔ملک ریاض کوڈیفالٹر ہونے کے باوجود مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیرہزاروں کنال اراضی دینے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ وہ عوام کے سرمائے سے اپنے عزائم کی تکمیل میں مصروف ہیں۔ کرنل طارق کمال نے مزید کہا ہے کہ بحریہ ٹائون کے مالک ملک ریاض نے لیفٹیننٹ جنرل (ر)امتیازحسین مرحوم کو ڈی ایچ اے میں لوٹ مار کا راستہ دکھایاجس کا نتیجہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے سکینڈل کی صورت میں نکلاجس میں لاکھوں فوجی اور سویلین اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو گئے۔چھبیس مئی پراسرارحالات میںہلاک ہونے والے جنرل (ر)امتیازحسین نے جی ایچ کیو میں بطور ایڈجوٹنٹ ملک ریاض کو قانون کی خلاف ورزی میںہر قسم کی مراعات دیں اور بعد ازاں آرمی ویلفئیر ٹرسٹ کے چئیرمین کی حیثیت سے بھی انھیں اربوں روپے کے فائدے پہنچائے جس سے ادارے کمزور اور شخصیتں مستحکم ہو گئیں۔ جلد ہی ملک ریاض اتنے با اثر ہو گئے کہ انکی مرضی کے بغیر ڈی ایچ اے میںکسی کی تعیناتی ناممکن ہو گئی اور اعلی افسران انکے اشاروں پر ناچنے لگے۔اس بات کا انکشاف کرنل (ر) محمدطارق کمال نے میڈیا کوجاری ہونے والے ایک بیان میں کیا۔انھوں نے کہا کہ جنرل امتیاز مرحوم کے بعد آنے والوں نے گھپلوں کے نئے ریکارڈ قائم کئے اور ابھی تک ملک ریاض کو نوازنے کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ انکی نوکری کا دارومدار ملک ریاض کی مرضی پر ہے اور وہ دوستوں کو نوازنے میں کسی بڑے سیاستدان سے کم نہیں۔جنرل امتیازکے بعد آنے والوں نے ایسے معاہدے کئے جنکے سامنے رینٹل پاور سمیت کسی جمہوری معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں۔کرنل طارق کے مطابق گھپلوں میں سب سے ممتاز مقام حاصل کرنے والے میںڈی ایچ اے افسران میں برگیڈئیر(ر)جاوید اقبال، برگیڈئیر(ر)جاوید اشرف باجوہ،برگیڈئیر(ر) مختار احمد طارق، کرنل (ر) محمد فاروق پرویزاورکاشف شریف شامل ہیں ۔اس لوٹ مار میں بحریہ ٹائون کے ملک ریاض حسین کے علاوہ انکے صاحبزادے احمد علی ریاض ملک حبیب رفیق لمیٹڈکے مالک زاہد رفیق بھی براہ راست ملوث ہیں۔مرحوم اپنی غلطیوں پر پشیمان تھے جبکہ دیگر کرپٹ عناصر پھل پھول رہے ہیں۔انکی موت کی ایف آئی آر درج نہ کرنے اور کیس دبانے کی تحقیقات کی جائیںتو چونکا دینے والے انکشافات ہو سکتے ہیں۔ جبکہ بحریہ ٹان کے کیسوں میں ایک بڑی پیشرفت صدر آصف علی زرداری نے ملک ریاض کے ذاتی محافظ جس نے 2010 میں سیکٹر ایف 8 اسلام آباد میں ایک شخص کو قتل کردیا تھا اور اعتراف جرم پر عدالت نے سزا دی تھی کو معافی دے دی ہے جبکہ اسکی اپیل ابھی تک ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے۔ محافظ محمد بشارت ولد تاج محمد نے 4 دیگر افراد کے ساتھ 9 جنوری 2010 کو ایف 8 مرکز میں فائرنگ کے ایک واقعہ میں ایک شخص کو قتل کردیا تھا اور ماتحت عدالت میں اعتراف کرلیا تھا جس نے ملزم کو 33 برس قید سخت کی سزا سنائی۔ اس کے اعتراف کے باعث دیگر تمام کو رہا کردیا گیا تھا۔ بشارت نے ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی اور اس کی اپیل کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق صدر زرداری نے سزا پانے والے مجرم کی باقی سزا چند روز قبل معاف کردی ہے اور وزارت داخلہ نے 13 جون 2012 کو محکمہ داخلہ پنجاب کو مذکورہ قیدی کی جلد رہائی کیلئے ایک انتہائی فوری خط ارسال کیا ہے۔ دوسری طرف بااعتبار ذرائع نے دی نیوز کو تصدیق کی ہے کہ پنجاب حکومت نے مذکورہ قیدی کو اس بنیاد پر رہا کرنے سے انکار کردیا ہے کہ صدر کسی مجرم کی معافی یا سزا کے خاتمے پر عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد غور کرسکتے ہیں۔ 13 جون 2012 کو وزارت داخلہ اسلام آباد کی طرف سے محکمہ داخلہ پنجاب کو لکھے جانے والے لیٹر نمبر (F.No.3/100/2011-PTNS) میں کہا گیا ہے عنوان: قیدی محمد بشارت ولد تاج محمد کی رحم کی اپیل جواب سینٹرل جیل اڈیالہ راولپنڈی میں قید ہے ڈیئر سر مجھے مندرجہ بالا عنوان آپ کو ارسال کرنے اور یہ کہنے کی ہدایت کی گئی ہے کہ صدر مملکت نے سزا یافتہ محمد بشارت ولد تاج محمد جوکہ مقدمہ ایف آئی آر نمبر 19/10 بتاریخ 9/01/2010 353, 337-F, 337-C, 148, 149, 324, 316 U/S تعزیرات پاکستان 1997, 7ATA جوکہ پولیس تھانہ مارگلہ ضلع اسلام آباد میں درج ہوا میں ملوث ہے کی باقی ماندہ سزا آئین پاکستان کے آرٹیکل 45 کے تحت ختم کردی ہے۔ 2: صوبائی حکومت کو مذکورہ قیدی کو باضابطہ آگاہ کرنے اور دیگر تمام متعلقین کی آگاہی کے تحت صدر کی تکمیل کی ہدایت کی جاتی ہے۔ آپ کا مخلص نور زمان خان سیکشن افسر (پی ٹی این ایس) فون نمبر 051-9207026 فیکس نمبر 051-9219738۔ صدارتی ترجمان اور وفاقی سیکرٹری داخلہ صدیق اکبر سے ان کے رابطہ نمبروں پر بار بار رابطہ کیا گیا مگر انہوں نے جواب نہیں دیا

کراچی: نجی ٹی وی چینل کے دفتر پر فائرنگ

aaj-tv پاکستان کے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل آج نیوز کے کراچی میں مرکزی دفتر پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ میں دو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے آج نیوز پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تحریک طالبان کے ترجمان نے  یہ اطلاع برطانوی نشریاتی ادارے کے ایک رپورٹر کو نامعلوم مقام سے ٹیلی فون کر کے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ آج نیوز طالبان مخالف تبصرے کر رہا تھا اور ان کا موقف درست انداز میں پیش نہیں کر رہا تھا۔ترجمان کے مطابق چند روز پہلے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر میں سکیورٹی فورسز پر حملے کے بعد آج نیوز نے طالبان کے خلاف پروپیگنڈا کیا تھا۔دوسری جانب آج نیوز کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد کی کراچی میں واقع ان کے مرکزی دفتر پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک سکیورٹی گارڈ اور آج نیوز کا ایک ملازم زخمی ہو گیا ہے۔آج نیوز کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد چار تھی اور وہ فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔آج نیوز کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں دفتر کے باہر کھڑی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔آج نیوز کے مطابق فائرنگ یہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا جب شہر قائد میں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی موجودگی کی وجہ سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
وزیراعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے آج ٹی وی کے دفتر پر حملے کی سخت نوٹس لیتے ہوئے کراچی پولیس کے سربراہ سے واقعہ تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی ہے۔اس کے علاوہ ملک کی مختلف صحافتی تنظیموں نے فائرنگ کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔خیال رہے کہ پاکستان کو صحافیوں کے لیے ایک خطرناک جگہ تصور کیا جاتا ہے اور یہاں پر صحافیوں پر حملے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں لیکن بہت کم ہی ایسا ہوا کہ ان حملوں میں ملوث افراد کا پتہ چل سکا۔اس سے پہلے رواں سال جنوری میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں شبقدر کے مقام پر فائرنگ کے نتیجے میں مہمند ایجنسی کی رپورٹنگ کرنے
 والے مقامی صحافی مکرم خان کو ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی لیکن کسی نجی ٹی وی چینل پر طالبان کے حملے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔
پاکستان میں میڈیا کی صنعت میں وسیع پیمانے پر توسیع تو ہوئی ہے لیکن اس کے ضابط اخلاق پر نہ تو آج تک اتفاق ہوسکا اور نہ ہی اس پر عملدرآمد کا کوئی نظام بن سکا۔پاکستان میں اخبارات ہوں یا ٹی وی چینلز کے مالکان، ملازمین کی تنظیمیں ہوں یا سرکاری ادارے ان کے اپنے اپنے ضابط اخلاق ہیں۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس یا پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل امین یوسف کہتے ہیں کہ انیس پچاس میں جب یہ تنظیم بنی اس وقت سے ضابط اخلاق بنایا گیا اور صحافی اس پر عمل کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور اخباری مالکان کی تنظیموں کے اپنے مفادات اور ترجیحات کی وجہ سے آج تک متفقہ ضابطہ طے نہیں ہو سکا۔ ان کے بقول ٹی وی چینلز کی بہتات کی وجہ سے غیر صحافی افراد کو بطور ٹی وی میزبان بھرتی کیا گیا ہے، جسے ان کی تنظیم صحافی ماننے کو تیار نہیں اور ان ہی کی وجہ سے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔امین یوسف کہتے ہیں کہ صحافت سے کرپشن کا خاتمہ ہونا چاہیے اور جو لوگ بھی رشوت لینے میں ملوث ہیں انہیں بے نقاب کرکے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔پاکستان میں اخبارات اور ویب سائٹس کے خلاف شکایات سننے والے ادارے پریس کونسل آف پاکستان کے چیئرمین اور لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج راجہ شفقت عباسی کہتے ہیں کہ اخباری مالکان ہوں یا ایڈیٹرز کی کونسل، صحافتی تنظیمیں ہوں یا حکومت کے مختلف ادارے ان کے اپنے اپنے ضابطہ اخلاق ہیں جو کہ نہیں ہونے چاہیئیں۔انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ فریق ایک مسودے پر متفق ہوں اور اس پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا آزاد اور خود مختار ادارہ جب تک نہیں بنے گا، جس میں حکومت کی مداخلت نہ ہو تب تک عملدرآمد نہیں ہوسکے گا۔شفقت عباسی کہتے ہیں کہ پریس کونسل کے ضابطہ اخلاق کے مطابق صحافیوں کو پیسے دینے یا پیسے لے کر کوئی پروگرام کرنے پر پابندی ہے اور اس کی سزا بھی ہے۔ لیکن ان
 کے بقول اگر کسی کے خلاف کارروائی کی جائے تو وہ اظہار رائے کی آزادی کا شور مچاتا ہے۔پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنیکی شرط پر کہا کہ تاحال متفقہ ضابطہ اخلاق نہ آنے اور اس پر عملدرآمد نہ ہونے کا ذمہ داری گزشتہ اور موجودہ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے بقول حکومت نے ٹی وی لائسنس پہلے دیے اور قوانین بعد میں بنائے، جو کہ ایسا ہے کہ کسی کو بندوق پہلے دے دیں اور لائسنس بعد میں۔بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جب تک غلط معلومات دینے کے خلاف سول سوسائٹی اور عام لوگ متعلقہ ادارے اور افراد کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے تب تک مسئلہ حل نہیں ہوگا۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں حکومتیں میڈیا کا بازو مروڑنے کے لیے ضابط اخلاق متعارف کرنے کی کوششیں کرتی رہی ہیں وہاں ذرائع ابلاغ کے مالکان اپنے کاروباری مفادات کو اظہار رائے کی آزادی کی چادر میں لپیٹتے رہے ہیں

Monday, 25 June 2012

Court orders Malik Riaz arrest

Court orders Malik Riaz arrest
RAWALPINDI – A local court in Rawalpindi on Monday ordered the Anti-Corruption Department to arrest real estate tycoon Malik Riaz Hussain, his son Malik Ali Riaz and seven other accused and produce them before the court on July 2.
Special Judge Anti-Corruption Chaudhry Ameer Muhammad Khan issued these directions while taking up the case of illegal transfer of 1401 kanals of land near Rawa
t involving the Bahria Town.
During the proceedings, the Anti-Corruption Department told the court that they along with Civil Line Police Station officials, including the area DSP, went to Islamabad for arresting Malik Riaz and others, but the Islamabad Police did not cooperate and sent them back.
Meanwhile, the counsel of real estate tycoon tendered an application with the court seeking cancellation of arrest warrants.
; however, the special judge observed that the application should be submitted in the presence of other party on the next date of hearing.
The court had issued arrest warrants for Malik Riaz, Ali Riaz and others in the land scam on Thursday last.

Thursday, 3 May 2012

سندھ کے کئي شہروں ميں15سے زائد دھماکے،6افراد زخمي

sindحيدرآباد… سندھ کے مختلف شہروں ميں 15سے زائد دھماکوں ميں پوليس اہلکار سميت6افراد زخمي ہو گئے. آج صبحاچھ بجے کے قريب حيدرآباد ميں نيشنل بينک کي اے ٹي ايم مشينوں ميں يکِ بعد ديگرے 4 دھماکے ہوئے جس کے بعد سندھ کے مختلف علاقے ديسي ساختہ بم دھماکوں سے گونج اٹھے. حيدرآباد ميں اناج منڈي، فاطمہ جناح روڈ،نسيم نگر اور لطيف آباد نمبر 7ميں دھماکے ہوئے. بھان سعيد آباد ميں بھي نيشنل بينک ميں دھماکا ہوا. تمام دھماکے نيشنل بينک کي برانچوں کے باہرہوئے. اس کے علاوہ کوٹري،ميہڑ،دادو،بدين،سکھر،نوابشاہ،قاضي احمد سميت مختلف علاقوں ميں ديسي ساختہ بموں کے زور دار دھماکے ہوئے.لاڑکانہ ميں بھي دو بم دھماکے ہوئے جن ميں ايک دھماکہ نجي بينک کے باہر ہوا. بم دھماکوں ميں ايک پوليس اہلکار سميت6 افراد زخمي ہوگئے جنہيں طبي امداد کے لئے اسپتال منتقل کرديا گيا

لاپتہ افراد کيس، وفاق دھيان نہيں دے رہا، چيف جسٹس

cjpکوئٹہ… چيف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدري نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت اگر بے بس ہے، يہ نہ سمجھا جائے کہ ہم بھي بے بس ہيں، لاپتہ افراد کي بازيابي پوليس کي ذمہ داري ہے اگر وہ يا صوبائي حکومت کچھ نہيں کرسکتي تو ہم کل وزيراعلي بلوچستان کو عدالت ميں طلب کرسکتے ہيں چيف جسٹس آف پاکستان نے يہ ريمارکس آج کوئٹہ ميں سپريم کورٹ کوئٹہ رجسٹري ميں صوبے ميں امن و امان اور لاپتہ افراد کي عدم بازيابي سے متعلق کيس کي سماعت کے دوران ديئے. چيف جسٹس کا کہنا تھا کہ بلوچستان ميں امن و امان کا اتنا بڑا مسئلہ ہے مگر وفاق دھيان نہيں دے رہا، ان کا کہنا تھا کہ عدليہ کا کام قانون کي حکمراني کو يقيني بنانا ہے، اس وقت بلوچستان ميں سات، آٹھ خفيہ ادارے کام کررہے ہيں وہ کيوں بے بس ہيں؟؟ لاپتہ افراد کي بازيابي کے حوالے سے آئي جي ايف سي اور خفيہ اداروں کے صوبائي سربراہاں کو عدالت ميں پيش ہونے کا حکم پر ڈپٹي اٹارني جنرل نے عدالت کو بتايا کہ خفيہ اداروں کے سربراہ مصروف ہيں اس لئے وہ عدالت ميں پيش نہيں ہوئے، اس موقع پر بينچ ميں شامل جج جسٹس خلجي عارف حسين نے ريمارکس دئيے کہ صوبے ميں لوگوں کے گھر جل رہے ہيں اور آپ لوگوں کي ميٹنگيں ختم نہيں ہورہيں، اسي دوران چيف جسٹس نے ڈپٹي اٹارني جنرل سے استفسار کيا کہ بلوچستان ميں قانون کي خلاف ورزي ہورہي ہے اگر آپ بے بس ہيں تو ہميں بتاديں، جس پر ايڈووکيٹ جنرل بلوچستان نے جواب ديا کہ ہم آپ کي ہدايت کے مطابق لوگوں کو لاپتہ کرنے والوں کے خلاف قانوني کاروائي کريں گے، اس ميں کسي کي نوکري جاتي ہے تو جائے، چيف جسٹس نے يہ بھي کہا کہ بلوچستان ميں چيف سيکرٹري کے علاوہ کوئي ذمہ دار موجود نہيں، گورنر اور وزيراعلي صوبے سے باہر ہيں، اس موقع پر جسٹس طارق پرويز نے کہا کہ بلوچستان کي حکومت اسلام آباد ميں بيٹھ کر عشائيہ کھارہي ہے. اس موقع پر چيف جسٹس نے کل آئي ايس آئي کے سيکٹرانچارج کوطلب کرنے کا حکم دے ديا. انھوں نے کہا کہ وزيراعظم عدالت آسکتے ہيں تو سيکٹر انچارج آئي ايس آئي کيوں نہيں؟

Thursday, 26 April 2012

گوجرانوالہ ،مشکوک افراد سے ڈیڑھ من چرس برآمد: پولیس


گوجرانوالہ(بیورورپورٹ) پٹرولنگ پولیس نے دوران گشت مشکوک افراد سے ڈیڑھ من چرس برآمد کرلی‘ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں حوالہ پولیس کردیاگیا۔ترجمان پٹرولنگ پولیس شیخ شاہد کے مطابق ایس ایس پی پٹرولنگ منیر مسعود مارتھ کی ہدایت پرپٹرولنگ پولیس اڑتالی ورکاں کی موبائل ٹیم نے دوران گشت ایک مشکوک کار کو روکاتو اس میں سوار تین افراد منور زمان‘ جاوید اقبال اور محمد یوسف کے قبضہ سے تین کلو چرس جبکہ کار کی تلاشی کے دوران57 کلومزید چرس برآمد ہوئی۔انچارچ موبائل محمد مصطفی اور محمد شفقت ایچ سی نے گاڑی قبضہ میں لے کر ملزمان کو تھانہ تتلے عالی پولیس کے حوالے کردیا جہاں ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیاگیاہے۔ ایس ایس پی پٹرولنگ منیر مسعود نے شاندار کاروائی پر پٹرولنگ پارٹی کے اہلکاران کے لئے نقد انعام کا اعلان کیاہے۔

ٹریفک وارڈن،ون وے کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف سختی سے قانونی کاروا ئی کر یں،افضل بٹ


گوجرانوالہ(بیورورپورٹ)چیف ٹریفک آفیسر افضل محمود بٹ نے کہا ہے کہ ون وے کی خلاف ورزی ٹریفک کے بہاؤ میں خلل کے ساتھ ساتھ حادثات کی بھی ایک بڑی وجہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل تیار کر لیا ہے۔اُنہوں نے ٹریفک وارڈنز کو ہدایت کی ہے کہ وہ ون وے کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف سختی سے قانونی کاروا ئی کر یں اور اس بارے میں کسی بھی قسم کی رعایت نہ برتیں۔ افضل محمود بٹ نے عوام الناس سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ بھی ون وے کی خلاف ورزی سے اجتناب کریں۔مزید برآں ایجوکیشن ونگ کی ٹیم نے گورنمنٹ ٹیکنیکل کالج اور پیپریڈائن سکول میں طلباء و طالبات کو ٹریفک قوانین بارے لیکچر دیا اس کے علاوہ فیروزوالا پُل اور چھچھروالی پُل پرٹریکٹر ٹرالی، گدھا گاڑی ،رکشہ و موٹر سائیکل رکشہ و دیگر سلو موونگ ٹریفک پر ریفلیکٹر ٹیپ چسپاں کی کہ جس سے رات کے وقت ہونے والے حادثات سے بچا جا سکے گا۔

Sunday, 22 April 2012

مظفر گڑھ : حاجی پور جنوبی میں قتل عام ۔۔۔۔ لواحقین کی میاں شہباز شریف سے اپیل

مظفرگڑھ (جاجی پور)  ابتدائی معلوماتی رپورٹ
گزارش ہے کہ مورخہ 14-3-2012کی رات کو اپنے اہل وعیال کے ساتھ اپنے گھر (موضع حاجی پور جنوبی ، تحصیل و ضلع مظفر گڑھ )میں سویا ہوا تھا کہ رات کے تقریباً11بجے کے قریب میرے گھرکے دروازہ پر دستک ہوئی میں نے دروازہ کھولا توریاض ، اقبال، جاوید وغیر ہ جوکہ اسلحہ سے مسلح تھے نے ہمیں یرغمال بنا لیا اور ہم سے گھر کی چابیاں طلب کی میں نے چابیاں اُن کے حوالے کر دی۔ اس کے بعدوہ ہم پر تشدد کرنے لگے تو میرے گھروالوں نے مزاحمت کی جس پر ریاض وغیرہ نے فائرنگ کردی ۔ فائرنگ کے نتیجے میں میری ایک نوجوان بیٹی (فرزانہ مائی )موقع پر جاں بحق جبکہ دوسری(سمیرا مائی ) شدید زخمی ہوگئی ۔ شدید خوف کی وجہ سے جب ہم نے مدد کے لیے پکارا تو گاؤں کے چند لوگ جاگ گئے اور ہمارے گھر کی طرف بھاگتے ہوئے آنے لگے جن کی آواز سن کر ریاض اور اس کے ساتھی اسلحہ سمیت موقع سے فرار ہوگئے۔ ہم نے اس واقع کی اطلاع ریسکیو 1122 کو دی جو مقتول (فرزانہ )اور زخمی(سمیرا) کو ڈسٹرکٹ ہسپتال مظفر گڑھ لے کر گئی ۔ مقتول (فرازانہ مائی ) کو پوسٹمارٹم کے بعد گھر جبکہ سمیرا مائی کو نشتر ہسپتال ملتان منتقل کر دیا گیا۔
تقریباً2بجے کے قریب ڈسٹرکٹ ہسپتال مظفرگڑھ میں متعلقہ تھانہ خان گڑھ کے (SHO)نجف عباس سیال اورچند سپاہی پہنچے۔ انہوں نے ہم سے تھوڑی بہت معلومات لینے کے بعد مجھ سے ایک پیپر پر دستخط بھی لے لیے۔ جبکہ میں اپنی بیٹیوں اور اس سانحہ کی وجہ سے انتہائی پریشان کن حالت میں تھا اور مجھے نہیں معلوم کہ یہ میرے دستخط کس مقصد کے لیے ہیں۔
15-3-2012کی صبح کو جائے وقوعہ پر علاقے کے لوگوں نے کھوجیوں کی مدد سے ریاض وغیرہ کے قدموں کے نشانات کو دیکھنے لگے۔ اس دوران تھانہ خان گڑھ کے DSPجناب غلام مصطفی گجر، SHOنجف عباس سیال اور چند سپاہیوں کے ساتھ موقع پر پہنچے اور کھوجیوں کے ساتھ ملکرکھوج لگانے لگے ۔ کھوج لگاتے ہوئے تمام لوگ ریاض کے گھر کے قریب جا پہنچے تو ریاض بھی کھوجیوں کی صف میں شامل ہو کر قاتلوں کا سراغ لگانے میں مدد کرنے لگا۔ اس دوران کھوجیوں نےDSPغلام مصطفی گجر کوریاض کی نشاندہی کی تو پولیس نے DSPصاحب کے حکم پر ریاض او راس کے والد کو گرفتار کر لیا۔
جناب عالیٰ!
جب ہم نے اپنی مقتول بیٹی کی تدفین اور مذہبی رسومات سے فارغ ہو کر تھانے سے انصاف کے لیے رجوع کیا۔ تو پتہ چلا کہ گرفتاری کے باوجودابتدائی معلوماتی رپورٹ(FIR)نامعلوم اشخاص کے نام پر درج کرادی گئی ہے۔ ہمارے بارہا اسرا ر (کہ FIRبنام ریاض، جاوید ، اقبال کے خلاف درج کریں)کے باوجود پولیس تھانہ خان گڑھ نے مقدمہ کو رفع دفع اور غیر اہم بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔ اور اس طرح وقوعہ کے کئی دن بعدضمنی کے طور پر حقیقی ملزمان کا نام درج کیا گیا۔ مگر کاروائی کا عمل نہایت سست ہے اور ابھی تک باقی ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ اور نہ ہی اب تک کیس کی کوئی حتمیٰ شکل سامنے آئی ہے۔عمران قریشی ایم پی اے (PP-256 (Muzaffargarh-VI))ملزمان کی پشت پناہی کر رہا ہے جسکی وجہ سے ملزم ریاض کے والد کو تھانہ سے رہا کروایاگیاہے اور ملزم سے کوئی تفشیش نہیں کی جارہی ہے بلکہ تھانہ کی حوالات میں قاتل (ریاض) کے تمام رشتے داروں کو ملنے کا موقع بھی فراہم کی جاتا ہے۔
جناب عالیٰ!
میری بیٹی جو کہ نشتر ہسپتال میں 15-3-2012سے 26-3-2012تک زیر علاج رہی مگر 12دن میں SHOصاحب نے اس کا بیان نہیں لیا بلکہ قاتلوں نے اپنے اثر رسوخ سے ہمیں وہاں سے قبل ازوقت ڈسچارج کرانے میں بھی کامیاب ہو گئے۔ جبکہ میری بیٹی کے زخموں سے خون ابھی بھی جاری ہے اور وہ چل پھر بھی نہیں سکتی تھی۔ SHOصاحب نے بیان لینے اورمیڈکل رپوٹ کے لیے تھانہ خان گڑھ طلب کرلیا کچے ،گھٹن اور دشوار راستوں سے بذریعہ موٹر سائیکل ایک ایسا مریض جس کو گولیاں لگی ہوں اور وہ اُٹھ کر بیٹھ بھی نہ سکتا ہو۔ ایک گاؤں سے 12سے 15کلو میٹر کا سفر کرنا کتنا محال ہوگا اس کا آپ باخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ درج بالا ساری صورتحال کے بعد اب تفشیشی افسر جناب سیف الرحمن روزانہ ایک نئی حجت کے ساتھ ہمیں واپس بھیج دیتا ہے کہ اب تم میڈیکل سرٹیفیکیٹ لاؤ اب تم پٹواری کی تصدیق لاؤوغیرہ وغیرہ
جناب عالی!
میں انتہائی غریب آدمی ہوں ۔ان ڈاکوںِ لٹیروں نے مجھے اور میرے گھرکوبرباد کردیا ہے۔ میری پکار سننے والا کوئی نہیں ہے۔ میں انصاف کی بھیک کس سے مانگو ۔خدارا مجھ پر رحم کریں۔ میں تو صرف انصاف مانگتاہوں
میر ی اعلیٰ حکام سے اپیل ہے مجھے انصاف دلوائیں۔خدا را ۔مجھ پر رحم کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف کاروائی کر کے انصاف دلایا جائے ۔
آپکا احسان مند رہوں گا۔
خادم حسین کے حکام اعلیٰ سے اپیل 
0306-8278831

Monday, 21 November 2011

ایم ایس سی کیمسٹری کرنےوالا ڈکیتی پر مجبور


لاہور: پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث کیمسٹری میں ایم ایس سی کرنے والے نوجوان لڑکے کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق عمران غفار نامی اس نوجوان لڑکے نے بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی سے بی ایس سی اور پنجاب یونیورسٹی سے کمسٹری میں ایم ایس سی کیا ہوا ہے۔
عمران غفار کا کہناہے کہ وہ 2 بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے اور اس نے بے روز گاری کی وجہ سے جرائم کی دنیا میں قدم رکھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے دو مزید ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ہےجو اس کے ساتھ وارداتوں میں ملوث تھے۔ پولیس نے مزید کہا کہ عمران غفار زیورات کو سونے کی ڈلیوں میں ڈھالتا اور فروخت کرتا تھا۔

Sunday, 20 November 2011

Pasha met Ijaz to verify ‘memo’ claims in London


LONDON - ISI chief Lt Gen Ahmed Shuja Pasha met Pakistani-American businessman Mansoor Ijaz in London to verify his claims that he helped deliver to US administration a secret memorandum in which Pakistani government purportedly sought American help to stave off a possible military takeover, an Indian media reported said on Sunday.
Due to the "sensitivity of the charges" levelled by Ijaz, including the alleged authorisation of the memo by President Asif Ali Zardari, the highest level of Pakistan's military leadership decided the initial investigation must be carried out by the ISI chief, an Indian state run news agency reported.
Asked to confirm whether the official who met him on October 22 was Pasha, Ijaz said "Yes."
Ijaz earlier said that the full data and evidence of his contacts with the Pakistani official who asked him to draft the memo has been given to Pakistani authorities. This includes records of phone calls, SMS messages, Blackberry exchanges and emails.
Ijaz met Pasha on October 22 in Park Lane Intercontinental Hotel in London. The meeting lasted for over four hours and Ijaz was "exhaustively grilled over his claims", the report said. 
The material provided by Ijaz was "subsequently put through a verification process" and once Pasha was convinced about its authenticity, "he briefed the army chief (Gen Ashfaq Parvez Kayani) who ultimately discussed the matter in his one-on-one meeting with President Zardari on November 15".
Kayani "impressed upon the President the inevitable necessity" of the presence in the country of Pakistan's Ambassador to the US Husain Haqqani to explain his alleged role in the controversy.

Saturday, 19 November 2011

Haqqani exchanged text messages with US businessman: Malik


ISLAMABAD: Pakistan's ambassador to Washington, Hussain Haqqani, did not write a letter seeking US help against the country's powerful military, Pakistan's interior minister said Saturday.
However, he was involved in communication via text message with an American national, Rehman Malik said.
Haqqani, who has offered to resign over the situation, but has denied the reports of his involvement, has now been called to Islamabad by Prime Minister Yousuf Raza Gilani and President Asif Ali Zardari to explain himself.
Speaking in Islamabad, Malik said there was no written letter, but he added that Gilani and Zardari had decided to call ambassador Haqqani to explain the situation
"This was not a letter, neither from presidency nor from any government 
organisation," Malik said.
"This is communication through SMS (text messages) by two individuals. One is an American national and second is our ambassador."
He said the evidence available was "an exchange of SMS messages and 
Blackberry messages" and added: "Now we have to see that who initiated these." 
Government officials in Islamabad said Haqqani was on his way to the 
capital. 
"And if his point of view was not satisfactory then it is clear that it is open for investigation," Malik said.
"It is not according to the justice to condemn someone without hearing him."

Former Indian telecom minister awarded 5 yrs imprisonment


NEW DELHI: Delhi Court has awarded five-year imprisonment to former Indian Telecom Minister Sukhram, India media reported.

Sukhram was awarded five years imprisonment after being convicted of taking Rs. 3 lakhs Indian rupees as bribe to give a lucrative contract to a private firm in 1996.

Durrani says he was not aware of the memo

ISLAMABAD: General (retired) Mahmud Ali Durrani has denied information pertaining to him in the Mansoor Ijaz memo.
“I was not aware of the memo, nor was I consulted when it was written” Durrani said.
Durrani added that the information about him in the memo was absurd.
Ijaz alleges that Durrani’s name was included in the list for the new national security team being prepared with the full backing of the civilian government. 

Pakistan police say no leads on kidnapped American


LAHORE: Three months after a group of gunmen kidnapped a sick and elderly American development expert in Pakistan, police said Friday they believe he is still alive but have no leads in the case.
Police in the eastern city of Lahore said they have released the only witnesses, have no crime scene evidence and cannot fathom a motive for the abduction on August 13 of Warren Weinstein.
The 70-year-old country director for US-based consultancy J.E. Austin Associates was snatched after gunmen used his driver to trick their way into his room at his Lahore home just days before he was due to return to the United States.
Three security guards and Weinstein's driver had been held in custody over suspicions that somebody close to him leaked details of his movements.
"We kept the driver and guards for three months and interviewed them at length. We couldn't find anything from those people," special investigations officer Abdul Razzaque Cheema told AFP.
"We couldn't get proper fingerprints from there (the house). We checked the (CCTV) camera but due to darkness there was nothing. So from the scene of the crime we couldn't find anything and we have no information coming."
Weinstein suffers from asthma, heart problems and high-blood pressure, and fears have been growing for his health if still being held captive in Pakistan, which is deeply troubled by Taliban and Al-Qaeda-linked violence.
But "there is no confirmation that he's dead," said Cheema. "Nobody has hinted to us he's dead. No, not at all. We consider him alive," he added.
Diplomatic relations between Pakistan and the United States have been severely compromised this year by the American raid killing Osama bin Laden on May 2 and Pakistan's earlier detention of a CIA contractor over double murder charges.
But although anti-Americanism runs high in Pakistan and kidnappings of Pakistanis are commonplace, abductions of Westerners are rare and practically unheard of in Lahore.
Criminal kidnappings usually yield a demand for ransom within three weeks, said Cheema, and most hostages are released within three months. "So I don't know who these people are," he said.
"Nobody has claimed responsibility. Normal criminals they go for kidnapping for ransom, but not foreigners," he said.

No decision without hearing Haqqani’s stance: PM


PESHAWAR: Prime Minister Yousuf Raza Gilani said Saturday that US Ambassador to Pakistan Husain Haqqani had been called back to the country and it would be inappropriate to make a decision without hearing his stance. 
Gilani while speaking to the media said the government had been tested before and was patient. 
The prime minister added that when the US threatened to attack Pakistan, the government took all stakeholders on board by calling the All Parties Conference (APC). 
Gilani said the government had cordial relations with the establishment adding that no unconstitutional steps would be allowed. 

نیٹو کے ٹرالے کاتلہ کنگ شہر میں ایک کار سے حادثہ

نیٹوحادثات !!! ذمہ دار کون؟
تلہ گنگ(سٹی رپورٹر)میانوالی سے آتے ہوئے نیٹو کے ٹرالے کاتلہ کنگ شہر میں ایک کار سے حادثہ۔ دو شخص موقع پر جاں بحق اور دو شدید زخمی ہو گئے ۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فوری طور پر روالپنڈی منتقل کر دیا گیا۔ نیٹو کے بڑھتے ہوئے رجحان سے حادثات معمول بن گئے ہیں اور کئی قیمتی جانوں کا نقصان بھی ہو چکا ہے۔ لواحقین کا حکومت وقت سے نیٹو کے خلاف کاروائی کا مطالبہ ۔ پاکستان نے نیٹو کے خلاف اگر بروقت کاروائی نہ کی تو شائد پاکستان کو مزیدجانی نقصانات کا سامنا کرناپڑے۔

Friday, 18 November 2011

Policeman tortures shopkeeper in Karachi

Jail
KARACHI - Local police registered a case against a police official for torturing a shopkeeper who demanded five rupees for a photostat copy. 
According to details, a high police officer’s guards and son manhandled the shopkeeper who asked for money for a photostat copy. Later, they took him away in city area of Sachal. 
When contacted by the family of the victim, Sachal police declined to cooperate.
SHO Sachal police station said the dispute arose on certain personal issues and a case has been registered in this connection.

Arms recovered from PIA flight


KARACHI - Twelve pistols have been recovered from the baggage of a passenger about to board a PIA flight to Kathmandu from the airport here on Friday.
Airport sources told that the pistols were concealed amid the truck spare parts. ]
Two persons have been taken into custody, of them one has been identified as Haji Adeel. 
However, the customs officials are trying to hush it up. When approached, customs officials expressed their ignorance of the incident, while airport police said that none of the organizations contacted them relating to recovery of pistols; nor do they have any information about it and thereby no FIR was registered in this regard.

82 suspects arrested ahead of Muharram

ISLAMABAD - Koral police on Friday arrested 82 suspects, including Afghan nationals and those hailing from tribal areas, as they failed to produce any document for their identity. The police conducted search operation in various areas of its jurisdiction during which they screened houses, workshops, markets, under-construction buildings and residential areas. Following the directions of IGP Bani Amin Khan and SSP Muhammad Yousuf Malik, the police are conducting checking in slum areas, hotels, restaurants and Afghan habitats also. These measures are being taken to ensure foolproof security on the eve of Muharram-ul-Haram and keep a vigilant eye on suspected elements. 

Several teams of Koral police, under the supervision of SP (Rural) Faisal Bashir Memon, conducted a thorough combing and search in various areas. These teams, headed by DSP Ahmed Iqbal and SHO Koral Inspector Sajjad Hussain Bukhari, screened houses, under-construction buildings and other places in Bilal Town, Khana Dak, Soodra, Sharifabad, Tarlai, Jang Syedan, Taramri, Service Road, Ghori Town, PWD Colony and National Police Foundation Colony. 
Police commandos, including lady commandos, also participated in the operation while sniffer dogs were also used in some areas. Such operation would continue in the coming days to conduct combing of sensitive areas, a police spokesman said. The SSP has directed all police officials to intensify efforts against antisocial elements and nab suspected elements.

 
Design by Free WordPress Themes | Bloggerized by Lasantha - Premium Blogger Themes | Hot Sonakshi Sinha, Car Price in India